برسلز24جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یورپ پہنچنے کی کوشش میں مزید چھبیس مہاجرین بحیرہ روم میں رونما ہوئے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق رواں برس اس پُرخطر سمندری سفر کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے تئیس جولائی بروز ہفتہ بتایا ہے کہ لیبیا کی ساحلی حدود میں رونما ہونے والے ایک تازہ حادثے کے نتیجے میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق افریقہ کے زیریں صحارا علاقے سے بتایا گیا ہے۔نئے آنے والے مہاجرین کو رہائش فراہم کرنے کی خاطر اٹلی میں مہاجر کیمپوں کے لیے جگہ تلاش کی جا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگر یورپی منصوبوں پر عمل درآمد میں مسائل پیدا ہوئے، تو اس ملک میں بھی پناہ گزینوں کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔لیبیا کے حکام کے مطابق ان افراد کی لاشیں جمعے کے دن نکالی گئی تھیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان کی کشتی کو حادثہ کب پیش آیا۔ جمعے کے دن بھی ساحلی محافظوں نے بحیرۂ روم میں ایک ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے 137 افراد کو بچا لیا تھا۔ یہ مہاجرین ربر کی کشتی پر سوار ہو کر بحیرہ روم عبور کرنا چاہتے تھے۔سن دو ہزار گیارہ میں عرب اسپرنگ اور بعدازاں آمر رہنما معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے لیبیا شورش کا شکار ہے۔ اس شمالی افریقی ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے وہاں متعدد جنگجو گروہوں نے طاقت جمع کر لی ہے، جن میں داعش کے حامی بھی شامل ہیں۔اسی افراتفری میں اس ملک میں انسانوں کے اسمگلر بھی فعال ہو چکے ہیں، جو لوگوں کو پیسوں کے عوض کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچانے میں مصروف ہیں۔ انسانوں کی اسمگلنگ کے لیے ربر اور ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔عالمی ادارہ برائے مہاجرت ( آئی او ایم) نے کہا ہے کہ انہی حادثات کے باعث رواں برس کے دوران ہلاک ہونے والے مہاجرین اور تارکین وطن تعداد تقریبا تین ہزار ہو چکی ہے۔ان میں زیادہ تر افراد لیبیا سے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں سمندر برد ہوئے ہیں۔آئی او ایم کے مطابق دن دو ہزار سولہ کے دوران تقریبا ڈھائی لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ اس سال صرف اٹلی پہنچنے والے ایسے افراد کی تعداد چوراسی ہزار باون بنتی ہے۔امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ لیبیا سے یورپ روانہ ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں تسلسل برقرار ہے اور جب تک انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں جائے گی، تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مہاجرین اور تارکین وطن کی کشتیاں حادثات کا باعث بنتی رہیں گی۔